07 April 2007

گوگل ایڈورڈز اردو

adw.jpg
اب گوگل ایڈسینس پر اردو اشتہارات بھی دکھائے جا سکیں گے ۔ گوگل نے اپنی سروسAdwords کو اردو زبان میں متعارف کرایا ہے ۔ وہ اردو ویب سائیٹیں جو یونیکوڈ سٹینڈرڈ میں مواد فراہم کرتی ہیں ان پر اب Google Adsense کے اردو اشتہارات دکھائے جا سکتے ہیں ۔
مزید معلومات کے لیے دیکھیے
گوگل ایڈورڈز اردو

لیکن اس ضمن میں ایک مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ آپ ایڈسینس پر اکاؤنٹ بناتے وقت اردو زبان کو منتخب نہیں کر سکتے ۔ یعنی آپ اردو ویب سائیٹ کے لیے ایڈسینس کا اکاؤنٹ نہیں بنا سکتے مگر
اس پر اردو اشتہار ضرور چلا سکتے ہیں ۔

گوگل کی صوتی تلاش

انٹرنیٹ پر تلاش کرنے پر اجارہ داری قائم کرنے کے بعد اب گوگل صوتی تلاش کی دُنیا میں بھی قدم رکھ رہا ہے، فی الحال یہ سہولت امریکہ میں رہنے والوں کے لئے تجرباتی طور پر شروع کی گئی ہے۔ امریکہ میں لوکل معلومات کے لئے 411 کا استعمال کرتے ہیں، جہاں فون کرنے سے آپ اپنے اِردگِرد موجود کسی بھی مطلوبہ کاروبار کے بارے میں معلومات لے سکتے ہیں۔ جیسے آپ نیویارک میں ہیں اور آپ کو بچوں کے کھلونے خرینے ہیں آپ 411 پر نمبر ملائیں ، اپنا علاقہ بتائیں اور آپ کو وہاں قریبی دوکان کا پتہ اور فون نمبر بتا دیا جائے گا۔
گوگل کی طرف سے پیش کردہ اِس سہولت میں دو بنیادی تبدیلیاں ہیں، پہلی کہ یہ مکمل طور پر وائس ایکٹویٹڈ ہے مطلب آپ کو کسی انسان سے بات نہیں کرنا پڑے گی، آپ نمبر ملائیں مشین کو بتائیں کہ کیا چاہیے جیسے گوگل کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ پیزا کہیں اور قریبی پیزا کی دوکان سے آپ کا فون پر رابطہ ہو جائے گا۔
دوسری مختلف بات کہ یہ کال بالکل مُفت ہو گی نہیں تو 411 پر کال کرنے کے عموما کچھ نرخ ہوتے ہیں جو آپ کی فون فراہم کرنے والے ادارے پر انحصار کرتا ہے۔ گوگل کی طرف سے یہ کال بالکل مُفت ہے آپ کو صرف آپ کی فون کمپنی کے کال کے نرخ ادا کرنا ہوں گے کوئی اضافی قیمت نہیں۔
تیسری بات کہ آپ یہ سب اپنے موبائل پر SMS کے ذریعے بھی یہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
تفصیلات کے لئے گوگل
پر جائیں۔

03 April 2007

میری گردن اور سنہری پٹہ !!!

حضور ایک بات سے توآپ اتفاق کریں گے کہ آج کے دور میں چند خوشقسمت لوگ ہی اپنے موجودہ حالات، اپنے ماحول اور اپنے طرزِ زندگی سے خوش ہیں، چاہے دیس ہو یا بدیس، گورا ہو یا کالا۔ اکثریت تو بس آنے والے وقت کے بہتر ہونے کی اُمید میں وقت گزار رہی ہے یا پھر ماضی میں رہ کر خوش ہے۔ میرے محلے کے دکاندار کو ہی لیجئے۔ آج کی نوجوان نسل سے نالاں ہے۔ جناب یہ نسل تو بالکل نکمی ہے، کام کاج آتا نہیں، بڑے چھوٹے کی عزت نہیں، سگریٹ پان اور دوسرے نشوں کی رسیا۔ میں نے پوچھابھیا پھر آپ پان سگریٹ کیوں بیچتے ہو؟ ٹھنڈی آہ بھر کر بولا جناب کیا کریں اس لعنت کے بغیر کاروبار میں مندہ ہوتا ہے، کوئی دکان پرہی نہیں آتا۔ ایک اخبار کے مالک سے پوچھا آپ عورتوں کی تصاویر کیوں چھاپتے ہیں؟ بولے اگر یہ نہ کریں تو رسالہ کون خریدے گا؟ ایک سیاستدان سے پوچھا جناب آپ جھوٹے وعدے کیوں کرتے ہیں؟ بولے بھیا آخر ووٹ بھی تو لینے ہیں اگر یہ وعدے نہ کروں تو آپ ووٹ دینگے بھلا؟ میں بغلیں جھانک کر ہی تو رہ گیا۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا ہم سب مجبور ہیں؟ کیا ہماری زندگیوں کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے؟ یہ سب ویسا کیوں نہیں جیسا ہم چاہتے ہیں؟ کم از کم ہماری اپنی زندگی تو ہماری مرضی کی ہو، ساری دنیا کی تو بات ہی جانے دیجیے۔ پھر مجھے بچپن کی سنی ایک کہانی یاد آئی۔ ایک فاقہ حال جنگلی کتے کا موازنہ ایک ایسے شہری کتے سے کیا گیا تھا جسکی زندگی کے سب پہلو قابلِ رشک تھے، سوائے گردن میں بنے اس نشان کے جسکی وجہ مالک کا پہنایا ہوا سنہری پٹہ تھا۔ کبھی کبھی یہ نشان مجھے اپنی گردن پر بھی دکھائی دیتا ہے!
صاحبو تھوڑی بہت کوشش تو میں نے بھی کی تھی اس پٹے کو اتار پھینکنے کی ۔ پتہ نہیں اسمیں کامیابی کتنی ہوئی لیکن ایک فائدہ ضرور ہوا۔ پہلے دنیا جتنی گنجلک لگتی تھی، اب اس سے تھوڑی کم لگتی ہے۔ تھوڑا سا غور کیا تو اس دنیا میں بسنے والے انسان مجھے تین اقسام میں منقسم نظر آئے۔ جی ہاں بالکل ویسے ہی جیسے قدیم (اور گاہے عصری) ہندو معاشرہ چار قسم کے انسانوں میں تقسیم تھا۔ برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ یقین مانیے یہ تقسیم ہر معاشرے میں، ہر دور میں رہی ہے۔ کچھ لوگ ہمیشہ ہر معاشرے میں خاص رہے ہیں۔ آج بھی ہیں۔ انکی نمایاں خصوصیت تو یہ ہے کہ ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ اور بھی باتیں ہیں جو انہیں خاص بناتی ہیں۔ مثلاً کوئی مذہب نہیں رکھتے، پیسہ کمانے کا ہنر جانتے ہیں اور انسانی نفسیات پر گہرا عبور رکھتے ہیں، دل سے نہیں دماغ سے سوچتے ہیں، شہرت سے دور بھاگتے ہیں اسی لیے کم کم جانے جاتے ہیں۔ انکی زندگی کا ایک اور صرف ایک مقصد ہے۔۔۔ پیسہ، پیسہ اور بہت سارا پیسہ!
اب آتے ہیں دوسری قسم کے لوگوں کی طرف۔ انکی سب سے بڑی اور نمایاں خصوصیت یہی ہے، یعنی نمایاں ہونا۔ یہ بھی گرچہ اقلیت ہے لیکن آپکو ہر طرف یہی نظر آئیں گے۔ اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور کوئی بھی ایسی جگہ جہاں یہ نمایاں ہو سکیں۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے، یہ اداکار طبقہ ہے، نہیں نہیں صرف وہ نہیں جو ہالی وڈ، بالی وڈ یا ایسی دیگر جگہوں پر آپکو نظر آتا ہے۔ یہ تو اور بھی کئی مقامات پر پایا جاتا ہے مثلاً حکومتوں میں، سرکاری و غیرسرکاری اداروں میں، تعلیمی اور تحقیقی اداروں میں، اقوامِ متحدہ، عالمی بنک اور اسی قبیل کے دیگر اداروں میں، وغیرہ وغیرہ۔ یہ ہمارے لئے رول ماڈلز (Role Models) ہیں یعنی ایک عام آدمی ان جیسا بننا چاہتا ہے، ان جیسا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، بولنا اور رہنا چاہتا ہے۔ ہمارے طرزِ زندگی (Lifestyles) انکی مرہونِ منت ہیں۔ ہمیں تہذیب یہ لوگ سکھاتے ہیں۔ ہمارا لباس، ہماری زبان، ہمارے رشتے سب پر انکا گہرا اثر ہے۔ یہ لوگ ہمارے دماغ، ہمارے تھنک ٹینک (think tank) ہیں، نئی نئی تحاقیق اور نئی نئی سائنسی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی اصطلاحالات کے ذریعے ہمیں انگشت بہ دنداں رکھتے ہیں۔مختصراً یہ کہ جو چاہے آپکا حسنِ کرشمہ ساز کرے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ یہ طبقہ بھی بڑا مظلوم ہے۔ انکی عزت، شہرت، دولت سب ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو انہیں یہاں تک لائے ہیں۔اگر یہ وہ سب نہ کریں جو اوپر والوں کا حکم ہے تو آسمان سے زمین پر پٹخ دیے جائیں۔ سکینڈلز، مقدموں وغیرہ میں الجھ کر ہیرو سے زیرو ہو جائیں۔ یہ طبقہ دراصل ان افراد پر مشتمل ہے جو نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہے اور اپنی محنت ، ذہانت ، قسمت اور لوگوں کو متاثر کرنے کی قابلیت کی وجہ سے اوپر بیٹھے لوگوں کا چناو ہوتا ہے۔ چند مجاہد ان میں سے بھی ہر دور میں نکلے ہیں لیکن زہر کا پیالہ پینا پڑا، مجنوں کہلائے اور بستی بدر ہو گئے۔
پھر آتا ہے عام عوام کا طبقہ یعنی میں، شائد آپ بھی بلکہ ہم سب۔ ہمارے خواب ہمارے نہیں اور ہماری زندگی ہماری نہیں۔ہمارے خواب وہ جو اوپر مذکور طبقے نے دکھائے ہیں اور ہماری زندگی ان کے ہاتھ میں جو سب سے اوپر بیٹھے ہیں۔ عرفِ عام میں ہم مڈل کلاس کہلاتے ہیں اور لگ بھگ چھ ارب کی تعداد ہے ہماری۔ فیکٹریوں، کھیت، ہسپتالوں، سکولوں کی رونق ہم اور معیشت کا انجن بھی ہم۔ ہم صارف (consumer) طبقہ ہیں۔ ہم نہ ہوں تو کاروبار بند ہو جائیں، منڈیاں (markets) اجڑ جائیں اور حکومتیں فارغ ہو جائیں۔ لیکن وائےافسوس کہ ہم کمزور ترین طبقہ ہیں اور سب سے زیادہ منقسم بھی۔ اپنے اردگرد کے حالات کو دیکھتے ہیں اور جیسا سب کر تے ہیں ویسا ہم بھی کرتے ہیں۔ اس طرح شائد ہم انفرادی ذمہ داری سے تو جان چھڑا لیتے ہیں لیکن اپنے گلے میں پٹہ پہن کر رسی کسی اور کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ اوپر بیٹھے لوگوں کی نظروں میں ہمارا رنگ، نسل، مذہب کوئی معنی نہیں رکھتا، انکے نزدیک ہم سب شودر ہیں، انسان نما حیوان (gentiles) ہیں, ان کے اشاروں پر ناچنے والے حیوان۔ اور یوں یہ کھیل جاری ہے، تاک دھنادھن تاک کا کھیل!

کلونجی ھر مرض کی دواھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نھیں ھے جس کی دوا کلونجی میں نہ ھو سواۓ موت کے"

سائنسی حقیقت:

مشرق وسطی اور مشرق اقصی کے اکثر ممالک میں دو ھزار سال سے زیادہ عرصہ سے کلونجی کا استعمال ایک طبیعی علاج کے طور پر کیا گیا ھے۔ اور 1959ء میں دخاخنی اور اس کے رفقاء نے کلونجیکے تیل سےنیجیللوں کے مجموعہ کو نکالاھے۔ اور کلونجی کےدانون میں 40 ٪ فیصد ثابت تیل اور 1.4 ٪ فیصد اڑنے والا تیل ھوتا ھے۔ اور 15٪ فیصد حفاظتی ایسیڈ، بروٹین، کیلشیم، آئرن سوڈیم، پوٹاسیم پایا جاتا ھے ۔ اور اس میں کام کرنے والے اھم اجزاء یہ ھیں ، ثیموکینون، دائیثیموکینون،ثیموہئیڈروکینون، اور ثیمون ۔ اور فطری مناعت (تحفظ) میں کلونجی کا اھم کردار ھےجس کا انکشاف 1967 ء میں امریکہ میں قاضی اور رفقاء کے ذریعہ کی گئی ریسرچز میں ھوا ھے۔ اس کے بعد مختلف ممالک میں اور مختلف میدانوں میں اس پودے کے متعلق تحقیقات اور ریسرچ کا کام ھوا، قاضی صاحب نے اپنی تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیاھےکہ قوت مناعت میں کلونجی کا بہت بڑا اثر ھوتا ھے، اس طور پر کہ لمفاوی.... خلایا جو کنٹرول کرنے والی خلایا کی مدد کا کام کرتی ھیں۔ اس میں 73٪فیصد اس کا تناسب ھوتا ھے۔ قاضی صاحب کی ریسرچ کی تائید میں جدید تحقیقات کے نتائج بھی سامنے آۓ ھیں۔ جن میں سے کچھـ مندرجہ ذیل ھیں۔

میگزین " المناعة الدوائية"کے اگست 1995ء کے شمارہ میں خارجی انسانی لمفاوی خلایا پر چند مراحل میں کلونجی کےاثرات کے متعلق اشاعت ھوئی ھے۔ جس میں خون کے مختلف سفید خلایا سے متعلق جو حلق کو تر وتازہ رکھتا ھے۔ اور اسی طرح اس میگزین کے ستمبر 2000ء کے شمارہ میں جوھوں میں cytomealovirus کےخلاف کلونجی کے تیل سے احتیاطی علاج کی تاثیر کےمتعلق ایک تحقیق شائع ھوتی ھے۔ اور کلونجی کے تیل کا استعمال وائرس کو ختم کرنے کیلئے تجربہ کیا گیا ۔ اور وائرس لگنے کے ابتدائی مرحلہ میں اس سے حاصل شدہ دفاعی قوت کا اندازہ لگایا گیا۔ اور اس میں حلق آپریشن اور بڑے بلعمی خلایا (آلے کے خلیے) نیز فطری مہلک خلایا کی تحدید کی گئی۔ اور میگزین "السرطان الأوربية "نامى (یوربین کینسر) کےاکتوبر1999ء کے شمارہ میں چوھوں میں معدہ کے کینسر پر ثیموکینون کے مجموعہ کی تاثیر کےمتعلق ایک اشاعت سامنے آئی ۔اسی طرح میگزین "أبحاث مضادات السرطان" کے مئی 1998ء کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کے ورم کوختم کرنے کے متعلق ایک تحقیق شائع ھوئی ھے۔ اسی طرح میگزین " الاثنو الدوائية" کےاپریل2000ء کے شمارہ میں کلونجی کے پیچ دانہ سے ایثانولی کے تیل سے دفاعی اور زھریلے اثرات سے متعلق تحقیق شائع ھوئی ھے۔ (النباتات الطبية) نامی میگزین کے فروری 1995ء کے شمارہ مین کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون کے مجموعہ کے اثرات پر تجربہ شائع کیا گیا ، اسی طرح سے کلونجی کے متعلق مختلف تحقیقات سامنے آتی ھیں۔

سبب اعجاز:

ارشاد نبوی ھے، کہ کلونجی ھر مرض کی دوا ھے، اور کلمۂ شفاء تمام احادیث میں نکرہ استعمال ھوا ھے، سیاق وسباق کے اعتبار سے مثبت اور نکرہ عامہ ھے۔

نتیجة اس لئے یہ کہنا زیادہ بھترھےکہ کلونجی میں ھر مرض سے شفایابی کا کچھـ نہ کچھـ تناسب موجود ھے اور یہ بھی ثابت ھو چکا ھے، کہ دفاعی نظام ھی ھرمرض کو ختم کرنے کا واحد نظام اور ھتھیار ھے، چونکہ دفاعی قوت خواہ وہ فطری ھو یا حاصل شدہ ھو اس کے اندر اسکی طاقت وصلاحیت ھوتی ھے کہ وہ ایسےجراثیم کو جسم کے اندر پیدا کرے جو امراض کے جراثیم کو بآسانی ختم کردیں۔اور ان کے لئے مہلک ھتیار ثابت ھوں ۔

اور تطبیقی تحقیقات سے یہ بات ثابت ھو چکی ھے کہ کلونجی دفاعی قوت کو ھمہ وقت چست رکھتی ھے۔اور مددگار خلیے ، کنٹرول کرنے والے خلیے اور فطری مہلک خلیے یہ سب بالخصوص لمفاوی خلیے ھیں ان سب کا تناسب قاضی صاحب کی تحقیقات میں 75٪ فیصد ھے۔ اور سائنسی میگزین میں شائع شدہ تحقیقات سے بھی اسکی تائید ھوتی ھے۔ جس میں مددگار لمفاوی خلیے اور حلق کے خلیوں کے حالات میں بہتری آئی۔ اور انتروائرون اور انترلوکین 3.1 کے مجموعہ میں اضافہ ھوا، اور دفاعی خلیوں میں بھی بہتری آتی، دفاعی نظام کی یہ بہتری بعض وائرس اور کینسر کے خلیوں پر کلونجی کے تیل سے ختم کردینے والی تاثیرپر اثر انداز ھوئی۔ اسی مرح بلہارسیا کے کیٹرے لگ جانے کی بیماری میں بھی مؤثر ھے، اور کافی کمی آئی ھے۔ اس لئے یہ کہنا کہ کلونجی میں ھر مرض کی دوا ھے کیونکہ یہ دفاعی نظام کو درست رکھتی ھے،اور تقویت دیتی ھے۔ اور اسی نظام میں ھر مرض کا علاج اور شفاء ھے۔ چونکہ یہ نظام ھر مرض کے اسباب کا ازالہ کرتا ھے۔ اور تمام امراض کا کلیاً جزئیاً علاج کرتا ھے۔

اس طرح سے ان احادیث کریمہ سے ایک سائنسی حقیقت کا انکشاف ھوا ھے، جو آج سے چودہ سو سال قبل جس کا کوئی انسان تصور نھیں کر سکتا تھا ، چہ جائی کہ اس کے متعلق گفتگو کرے سواۓ اس نبی کے جو رب ذو الجلال کی جانب سے مبعوث ھے۔ ارشاد ربانی ھے ،"وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی" (سورة نجم آیت 3-4)

اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی جانب سے کوئی بات نھیں کہتے بلکہ وھی کہتے ھیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی جاتی ھے۔




قرآن اور سنت ميں علمى اعجاز كى بين الاقوامى تنظيم

02 April 2007

جنگ کی بلاگ سروس کا اجرا

اراکین محفل!

السلام علیکم
روزنامہ جنگ نے حال ہی میں اردو بلاگ سروس شروع کی ہے
حکیم خالد کا بلاگ پڑھیں۔

تبصرہ کریں۔

یا اپنا بلاگ تحریر کریں

براڈ بینڈ بینڈ وڈتھ ریٹ میں کمی

طویل انتظار کے بعد بالآخر پی ٹی اے نے براڈ بینڈ کے لیے بینڈ وڈتھ کے ریٹ میں کمی کردی ہے۔ چند اہم نکات کا خلاصہ پیش کررہا ہوں

پہلی نکتہ صرف پی ٹی اے کی حمد ہے اس لیے اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اگلے نکتہ پر چلتے ہیں

دوسرا نکتہ پی ٹی اے کے اختیارات اور فرائض پر مشتمل ہے جس پر زیادہ تردد کی ضرورت نہیں

تیسرا نکتہ اہم ہے اور حکومتِ پاکستان کی پہلی براڈ بینڈ پالیسی دسبر ٢٠٠٤ کے چند نکات پر مشتمل ہے
قابل خرید ، ہمیشہ میسر اور تیز رفتار براڈ بینڈ انٹرنیٹ پورے پاکستان میں پھیلانا ( ابھی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا اس کے لیے )
نئے آنی والی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی اور قائم شدہ کمپنیوں کو ترقی میں مدد دینا
پرائیوٹ سیکٹر کی مقامی مواد اور براڈ بینڈ سروس مہیا کرنے کے لیے حوسلہ افزائی

چوتھا نکتہ سب سے اہم ہے مگر ٹارگٹ اتنا کم رکھا ہے کہ قابل شرم ہے
پالیسی ایک قابل عمل نقشہ پیش کرتی ہے جس کی مدد سے ٥ لاکھ صارفین (صرف ) کا ہدف اگلے پانچ سال میں حاصل کیا جائے گا ۔ پالیسی پاکستان میں ہوسٹنگ اور انٹر نیشنل آئی پی بینڈ وڈتھ میں کٹوتی کی سفارشات بھی پیش کرتی ہے ، اس سے براڈ بینڈ کی نشو و نما میں مدد ملے گی۔

پانچواں نکتہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن رولز ٢٠٠٠ کے سترہواں رول بتاتی ہے ۔
چھٹا نکتہ بھی ایک اور رول کے بارے میں ہے اور بورنگ ہے

پھر مسائل کا ذکر کیا گیا ہے اور بطور خاص یہ نکتہ قابل غور ہے
پی ٹی سی ایل کے زیادہ ریٹس کی وجہ سے سرمایہ کاری کرنے سے سرمایہ کار گھبرا رہے ہیں ۔ چند قابل ذکر نکات

١۔ بینڈ وڈتھ ٹیرف کو سختی سے کنٹرول نہیں کیا جاتا اور اتھارٹی کو کنٹرول کرنا چاہیے
٢۔ پی ٹی سی ایل کے ٹیرف کافی زیادہ ہیں باقی ممالک کے مقابلے میں مثلا ٣٩٥٠ جس کیپیسٹی کے لیے پی ٹی سی ایل دے رہی ہے بھارت میں وہ ٢٤٦٢ میں میسر ہے۔



بہت بورنگ ہے اور جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔